اسمارٹ شہروں کا ڈیزائن: حکومتی تعاون سے ہونے والے حیران کن فوائد

webmaster

스마트시티 디자인의 정책적 지원 방안 - **Prompt 1: Digital Connectivity and Community Engagement in a Smart City**
    "An aerial wide shot...

اسلام و علیکم! امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کرنے والے ہیں جو نہ صرف ہمارے آج بلکہ ہمارے کل کو بھی بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جی ہاں، میں بات کر رہا ہوں “اسمارٹ سٹی ڈیزائن” کی۔ جب ہم اسمارٹ شہروں کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں خودکار نظام، جدید ٹیکنالوجی، اور ہر سہولت سے آراستہ بستیاں آتی ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے حکومتی سطح پر کیا کچھ کیا جا رہا ہے؟ پالیسی سپورٹ پلانز کیسے ان شہروں کو بنانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں؟ میرا ذاتی تجربہ کہتا ہے کہ کسی بھی بڑے منصوبے کی کامیابی کے پیچھے ٹھوس پالیسیوں اور حکومتی تعاون کا ہاتھ ہوتا ہے۔آج کے دور میں جہاں دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہی ہے، ہمارے شہر بھی اس تبدیلی کا حصہ بن رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) جیسی ٹیکنالوجیز ہمارے روزمرہ کے مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ صفائی ستھرائی سے لے کر ٹریفک کنٹرول تک، توانائی کے بہتر استعمال سے لے کر شہری حفاظت تک، ہر شعبے میں پالیسیوں کا ایک مضبوط فریم ورک ہی ان انقلابی تبدیلیوں کو ممکن بنا سکتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے صحیح حکمت عملی شہروں کو پائیدار اور رہائشیوں کے لیے مزید پرکشش بناتی ہے۔ تو چلیے، مزید گہرائی میں جا کر دیکھتے ہیں کہ اسمارٹ شہروں کے ڈیزائن میں حکومتی پالیسیوں کا کیا کردار ہے اور یہ ہمارے مستقبل کو کیسے سنوار سکتی ہیں۔ آئیے آج اس دلچسپ اور انتہائی اہم موضوع پر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔

پالیسیوں کے ذریعے ڈیجیٹل ڈھانچے کی مضبوطی

스마트시티 디자인의 정책적 지원 방안 - **Prompt 1: Digital Connectivity and Community Engagement in a Smart City**
    "An aerial wide shot...

اسمارٹ شہروں کی بنیاد ایک مضبوط اور جدید ڈیجیٹل ڈھانچے پر رکھی جاتی ہے، اور اس ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے حکومتی پالیسیاں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میں نے اپنے تجربے سے یہ دیکھا ہے کہ جب تک ریاست کی طرف سے واضح اور جامع پالیسیاں نہ ہوں، ٹیکنالوجی کا کوئی بھی بڑا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ ان پالیسیوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی، ڈیٹا پرائیویسی اور سیکیورٹی کے قوانین، اور IoT ڈیوائسز کے استعمال کے لیے معیارات شامل ہوتے ہیں۔ یہ صرف ٹیکنالوجی نصب کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کا نام ہے جہاں ٹیکنالوجی شہری زندگی کا حصہ بن کر لوگوں کی سہولت کا باعث بنے۔ ہمارے حکام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شہریوں کو ڈیجیٹل خواندگی کی طرف راغب کرنا اور انہیں نئی ٹیکنالوجیز سے واقف کرانا بھی پالیسی سازی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے شہر واقعی “اسمارٹ” بنیں تو ہمیں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) کے ڈھانچے میں بھرپور سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں حکومتی تعاون کے بغیر نجی شعبہ اکیلا کامیاب نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تیاری اور طویل مدتی وژن کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں ہمیشہ سے یہ مانتا آیا ہوں کہ جو ممالک ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، وہ نہ صرف اقتصادی طور پر مضبوط ہوتے ہیں بلکہ اپنے شہریوں کو ایک بہتر مستقبل بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی عمارت کی بنیاد مضبوط ہو تو اس پر کتنی ہی منزلیں کھڑی کی جا سکتی ہیں۔

فاسٹ انٹرنیٹ اور وائی فائی کی دستیابی

مجھے یاد ہے کہ چند سال پہلے تک ہمارے بہت سے شہروں میں انٹرنیٹ کی رفتار اور دستیابی ایک بڑا مسئلہ تھی۔ لیکن اب حکومتی اقدامات کی وجہ سے چیزیں کافی بہتر ہوئی ہیں۔ اسمارٹ شہروں کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری کو سستی اور تیز رفتار انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہو تاکہ وہ ان ڈیجیٹل سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں جو ایک اسمارٹ شہر پیش کرتا ہے۔ وائی فائی ہاٹ سپاٹس کی ہر جگہ دستیابی اور 5G نیٹ ورکس کی توسیع اس کی بنیادی مثالیں ہیں۔

ڈیٹا سیکیورٹی اور پرائیویسی کے قوانین

جب ہم اتنی زیادہ ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کے استعمال کی بات کرتے ہیں تو ڈیٹا کی حفاظت اور شہریوں کی ذاتی معلومات کی پرائیویسی سب سے اہم ہو جاتی ہے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مضبوط قوانین بنائے جو شہری ڈیٹا کو غلط استعمال سے بچا سکیں اور انہیں سیکیورٹی کا احساس دلائیں۔ یہ قوانین نہ صرف شہریوں کا اعتماد بڑھاتے ہیں بلکہ نجی کمپنیوں کو بھی ایک محفوظ ماحول میں کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

پائیدار شہری ترقی اور ماحولیاتی تحفظ

ایک اسمارٹ شہر صرف ٹیکنالوجی کے استعمال کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا شہر ہے جو پائیدار ہو اور اپنے ماحولیاتی اثرات کو کم کرے۔ یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ کوئی بھی شہر تب تک مکمل طور پر اسمارٹ نہیں کہلا سکتا جب تک وہ اپنے قدرتی وسائل کو محفوظ نہ رکھے اور آلودگی پر قابو نہ پائے۔ حکومتی پالیسیاں یہاں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، کیونکہ وہ قابل تجدید توانائی (جیسے شمسی اور بادی توانائی) کے استعمال کو فروغ دیتی ہیں، فضلے کے انتظام کے جدید نظام متعارف کراتی ہیں، اور پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بناتی ہیں۔ مجھے ہمیشہ سے یہ فکر رہی ہے کہ ہم اپنے آنے والی نسلوں کے لیے کس طرح کا ماحول چھوڑ کر جائیں گے، اور اسمارٹ شہروں کی منصوبہ بندی میں یہ پہلو بہت اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے منصوبوں کو ترجیح دے جو نہ صرف شہر کو جدید بنائیں بلکہ اسے “گرین” بھی رکھیں۔ سمارٹ لائٹنگ، سمارٹ ویسٹ مینجمنٹ، اور شہری جنگلات کاری جیسے منصوبے نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ ماحولیاتی توازن کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک شہر میں میں نے دیکھا کہ کیسے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام نے زمین کے پانی کی سطح کو بہتر بنانے میں مدد کی، یہ سب حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔

قابل تجدید توانائی کا فروغ

حکومت کی طرف سے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر سبسڈی اور ٹیکس میں چھوٹ دینا ایک اسمارٹ قدم ہے جو نہ صرف توانائی کے اخراجات کو کم کرتا ہے بلکہ ماحول کو بھی صاف رکھتا ہے۔ شمسی پینل کی تنصیب کو آسان بنانا اور سولر فارمز کی حوصلہ افزائی کرنا اسمارٹ شہروں کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ یہ نہ صرف بجلی کی پیداوار میں خود کفالت کی طرف ایک قدم ہے بلکہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مددگار ہے۔

جدید فضلے کا انتظام

فضلہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کا سامنا ہمارے شہروں کو ہے۔ سمارٹ ویسٹ مینجمنٹ پالیسیاں، جن میں کچرا الگ کرنا، ری سائیکلنگ کو فروغ دینا، اور فضلے سے توانائی پیدا کرنے والے پلانٹس لگانا شامل ہیں، ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے جدید کچرا دان جو بھرنے پر خود بخود اطلاع دیتے ہیں، صفائی کے نظام کو کتنا مؤثر بنا دیتے ہیں۔

Advertisement

بہتر ٹرانسپورٹیشن اور ٹریفک مینجمنٹ سسٹم

کسی بھی شہر میں ٹریفک کا مسئلہ ایک سر درد سے کم نہیں ہوتا، اور اسمارٹ شہروں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اس مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل کریں۔ میرے خیال میں حکومتی پالیسیاں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنانے، سمارٹ سگنلنگ سسٹم نصب کرنے، اور پارکنگ کے جدید حل فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان پالیسیوں کی بدولت شہری آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کر سکتے ہیں اور ٹریفک جام جیسی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب ٹریفک کا نظام بہتر ہوتا ہے تو لوگ زیادہ خوش اور فعال محسوس کرتے ہیں۔ یہ صرف سفر کا وقت بچانے کا معاملہ نہیں، بلکہ شہر کی معیشت اور رہائشیوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کا بھی ہے۔ اسمارٹ ٹرانسپورٹیشن سسٹم میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ریئل ٹائم انفارمیشن، ای-ٹکٹنگ، اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کا قیام شامل ہے۔ ان چیزوں کی وجہ سے نجی گاڑیوں پر انحصار کم ہوتا ہے اور ماحول بھی صاف ستھرا رہتا ہے۔ میں نے خود کئی ممالک میں دیکھا ہے کہ کیسے بہترین ٹرانسپورٹ سسٹم نے ان شہروں کو عالمی سطح پر پہچان دلائی ہے، اور یہ سب ٹھوس حکومتی منصوبہ بندی اور پالیسیوں کی مرہون منت ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کی جدت

بسوں، ٹرینوں اور میٹرو جیسے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو سمارٹ ٹیکنالوجی سے جوڑنا بہت ضروری ہے۔ حکومتی پالیسیاں ریئل ٹائم ٹریکنگ، آن لائن ٹکٹنگ اور سمارٹ کارڈ سسٹم کو فروغ دے کر شہریوں کے لیے سفر کو آسان بنا سکتی ہیں۔ یہ نہ صرف ٹریفک کو کم کرتا ہے بلکہ فضائی آلودگی میں بھی نمایاں کمی لاتا ہے۔

سمارٹ ٹریفک سگنلز اور پارکنگ حل

میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے شہروں میں ٹریفک سگنلز اکثر پرانے ہو چکے ہوتے ہیں اور ٹریفک کے بہاؤ کے مطابق خود بخود ایڈجسٹ نہیں ہوتے۔ سمارٹ ٹریفک سگنلز جو مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ٹریفک کی صورتحال کے مطابق وقت بدلتے ہیں، ٹریفک جام کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سمارٹ پارکنگ حل، جہاں آپ موبائل ایپ کے ذریعے خالی جگہ تلاش کر سکتے ہیں، پارکنگ کے مسائل کو حل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

شہریوں کی حفاظت اور سمارٹ سیکیورٹی اقدامات

ایک محفوظ اور پرامن ماحول کسی بھی اسمارٹ شہر کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ میری دلی خواہش ہے کہ ہمارے شہر اتنے محفوظ ہوں کہ کوئی بھی شخص کسی بھی وقت بلا خوف و خطر باہر نکل سکے۔ حکومتی پالیسیاں اس میدان میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان میں سی سی ٹی وی کیمروں کا وسیع نیٹ ورک، سمارٹ پولیسنگ، اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم کا قیام شامل ہے۔ میں نے خود کئی شہروں میں دیکھا ہے کہ کیسے ٹیکنالوجی نے کرائم ریٹ کو کم کرنے اور شہریوں کو تحفظ کا احساس دلانے میں مدد کی ہے۔ یہ صرف پولیس کے لیے نہیں، بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں انہیں بروقت مدد ملے گی۔ اسمارٹ شہروں میں ایمرجنسی الرٹ سسٹم، چہرہ شناسی (facial recognition) ٹیکنالوجی، اور ڈرون کی نگرانی جیسے اقدامات سے شہر کو مزید محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کا استعمال شفافیت اور اخلاقی اصولوں کے تحت ہو۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم درست پالیسیاں بنائیں تو ہم ایسے شہر بنا سکتے ہیں جہاں ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔ سیکیورٹی صرف کیمروں کی تعداد کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا مربوط نظام ہے جو ہر شہری کو تحفظ فراہم کرے۔

سی سی ٹی وی نیٹ ورک اور AI نگرانی

شہر بھر میں ہائی ریزولوشن سی سی ٹی وی کیمروں کا نیٹ ورک نصب کرنا اور انہیں مصنوعی ذہانت کے ساتھ جوڑنا سیکیورٹی کو بہت بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ کیمرے نہ صرف جرائم کو روکنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں تحقیقات میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ AI کیمرے مشکوک سرگرمیوں کا خود بخود پتا لگا کر متعلقہ حکام کو الرٹ کر سکتے ہیں۔

ایمرجنسی رسپانس سسٹم کی کارکردگی

کسی بھی ہنگامی صورتحال، جیسے کہ آگ لگنے یا قدرتی آفت کی صورت میں، فوری رسپانس سسٹم کا ہونا بہت ضروری ہے۔ حکومتی پالیسیاں ایسی ٹیکنالوجیز کو سپورٹ کر سکتی ہیں جو ایمرجنسی سروسز کو تیزی سے متاثرہ جگہ تک پہنچنے میں مدد دیں۔ مثلاً، سمارٹ شہروں میں خودکار سنسر آگ لگنے کی صورت میں فوری طور پر فائر بریگیڈ کو الرٹ کر سکتے ہیں۔

Advertisement

سرمایہ کاری اور مالیاتی ترغیبات

اسمارٹ شہروں کی تعمیر میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے، اور میرے تجربے میں یہ تب ہی ممکن ہے جب حکومت نجی شعبے کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دے۔ حکومتی پالیسیاں ٹیکس میں چھوٹ، سبسڈی، اور آسان قرضوں کی فراہمی کے ذریعے نجی سرمایہ کاروں کو اسمارٹ شہروں کے منصوبوں میں حصہ لینے پر آمادہ کر سکتی ہیں۔ مجھے ہمیشہ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جہاں سرکاری اور نجی شعبہ مل کر کام کرتے ہیں، وہاں بڑے اور کامیاب منصوبے جنم لیتے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل اسمارٹ شہروں کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ دونوں شعبوں کی طاقتوں کو یکجا کرتا ہے۔ حکومت کا کام صرف قوانین بنانا نہیں، بلکہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہے جہاں سرمایہ کاری پھلے پھولے اور نئے کاروبار پیدا ہوں۔ اس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں بلکہ شہر کی معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب حکومتیں سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہیں تو وہ اپنے منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لیے زیادہ پرجوش ہوتے ہیں۔ اسمارٹ شہروں کی ترقی کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاری کو بھی راغب کرنا بہت ضروری ہے، اور اس کے لیے مضبوط اور شفاف پالیسیوں کا ہونا ناگزیر ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک باغ کو سیراب کرنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح اسمارٹ شہروں کے منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

ٹیکس میں چھوٹ اور سبسڈی

حکومتیں نجی کمپنیوں کو اسمارٹ سٹی پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ٹیکس میں چھوٹ یا سبسڈی کی پیشکش کر سکتی ہیں۔ یہ خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے پرکشش ہوتا ہے جو گرین ٹیکنالوجیز یا پائیدار حل میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ یہ مالیاتی ترغیبات سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا ایک بہت مؤثر طریقہ ہے۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (PPP)

پی پی پی ماڈل حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ حکومت بنیادی ڈھانچے فراہم کرتی ہے جبکہ نجی کمپنیاں ٹیکنالوجی اور مہارت لاتی ہیں۔ اس طرح بڑے منصوبوں کو تیزی سے اور زیادہ مؤثر طریقے سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے اس ماڈل نے بہت سے ترقی پذیر ممالک میں کامیابی سے بڑے منصوبے مکمل کیے ہیں۔

شہریوں کی شمولیت اور ڈیجیٹل گورننس

ایک حقیقی اسمارٹ شہر وہ ہے جو اپنے شہریوں کی آواز سنتا ہے اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر شہریوں کو یہ محسوس ہو کہ ان کی آراء کو اہمیت دی جا رہی ہے تو وہ کسی بھی منصوبے کو زیادہ دل سے قبول کرتے ہیں۔ حکومتی پالیسیاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے شہریوں کو براہ راست شہر کی منصوبہ بندی میں شامل کرنے کا راستہ کھول سکتی ہیں۔ اس میں آن لائن پولز، تجاویز کے لیے پورٹلز، اور کمیونٹی میٹنگز کا ڈیجیٹل انعقاد شامل ہے۔ اسمارٹ شہروں میں یہ بہت ضروری ہے کہ حکومت اور شہری ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہیں تاکہ شہری مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔ جب شہری یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے خیالات پر عمل ہو رہا ہے، تو ان کا اعتماد بڑھتا ہے اور وہ شہر کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کس طرح ایک سادہ ایپ کے ذریعے شہریوں نے گلیوں میں کچرے اور ٹوٹ پھوٹ کی اطلاع دی اور حکام نے فوری کارروائی کی۔ یہ ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال ہے جو شہریوں کو بااختیار بناتا ہے اور گورننس کو شفاف بناتا ہے۔ ڈیجیٹل گورننس کا مطلب صرف آن لائن سروسز فراہم کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں شہری حکومت کے ساتھ آسانی سے بات چیت کر سکیں اور اپنے مسائل کا حل حاصل کر سکیں۔

آن لائن مشاورت اور فیڈ بیک پلیٹ فارمز

حکومت کو ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تیار کرنے چاہئیں جہاں شہری شہر کی ترقی کے منصوبوں پر اپنی رائے دے سکیں اور تجاویز پیش کر سکیں۔ یہ پلیٹ فارمز شہریوں کو براہ راست فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرتے ہیں اور شفافیت کو فروغ دیتے ہیں۔

سمارٹ سروسز اور ای-گورننس

تمام حکومتی خدمات کو آن لائن دستیاب کرنا، جیسے کہ بل ادا کرنا، لائسنس کے لیے درخواست دینا، یا دستاویزات حاصل کرنا، شہریوں کی زندگی کو آسان بناتا ہے۔ اسمارٹ شہروں میں ای-گورننس شہریوں کو بروقت اور شفاف خدمات فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف وقت بچاتا ہے بلکہ کرپشن کو بھی کم کرتا ہے۔

Advertisement

بہترین عالمی طرز عمل سے استفادہ اور بین الاقوامی تعاون

اسمارٹ شہروں کی ترقی ایک پیچیدہ عمل ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہم ہر چیز خود ہی سیکھیں اور تجربہ کریں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمیں ان شہروں سے سیکھنا چاہیے جنہوں نے اسمارٹ سٹی کے منصوبوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ حکومتی پالیسیاں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے سکتی ہیں، جہاں ہم دوسرے ممالک سے ٹیکنالوجی، مہارت، اور بہترین طرز عمل کو اپنا سکیں۔ عالمی سطح پر ایسے کئی کامیاب ماڈلز موجود ہیں جن سے ہم سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں ہم اپنے شہروں کو بین الاقوامی معیار پر لا سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک کانفرنس میں، میں نے دیکھا کہ کیسے ایک یورپی شہر نے اپنے ٹریفک کے مسائل کو ایک بالکل نئے طریقے سے حل کیا تھا، اور مجھے لگا کہ ہم بھی اپنے شہروں میں ایسے ہی طریقے اپنا سکتے ہیں۔ بین الاقوامی شراکتیں نہ صرف ہمیں نئے خیالات دیتی ہیں بلکہ ہمیں مالیاتی اور تکنیکی مدد بھی فراہم کر سکتی ہیں۔ اسمارٹ شہروں کی ترقی ایک عالمی چیلنج ہے، اور اس کا حل بھی عالمی تعاون سے ہی نکل سکتا ہے۔ ہمیں دوسرے ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ان کی کامیابیوں سے سیکھ کر اپنے شہروں کو بہتر بنانا چاہیے۔ یہ صرف نقالی نہیں بلکہ اپنے مقامی حالات کے مطابق بہترین عالمی طریقوں کو اپنانا ہے۔

پالیسی کا شعبہ اسمارٹ سٹی میں کردار مثال
ڈیجیٹل ڈھانچہ تیز رفتار انٹرنیٹ اور ڈیٹا سیکیورٹی فاسٹ وائی فائی ہاٹ سپاٹس، ڈیٹا پرائیویسی قوانین
ماحولیاتی پائیداری قابل تجدید توانائی اور فضلے کا انتظام شمسی توانائی کے منصوبے، ری سائیکلنگ کو فروغ
ٹرانسپورٹیشن بہتر پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹریفک مینجمنٹ سمارٹ سگنلز، ای-ٹکٹنگ سسٹم
سیکیورٹی شہریوں کا تحفظ اور ایمرجنسی رسپانس سی سی ٹی وی نیٹ ورک، ایمرجنسی الرٹ سسٹم
مالیاتی معاونت سرمایہ کاری کی ترغیبات اور PPP ماڈل ٹیکس میں چھوٹ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس
شہریوں کی شمولیت فیڈ بیک پلیٹ فارمز اور ای-گورننس آن لائن مشاورت، سمارٹ حکومتی خدمات

ٹیکنالوجی اور مہارت کا تبادلہ

بین الاقوامی سطح پر ٹیکنالوجی کے تبادلے کے پروگرام اور ماہرین کے دورے اسمارٹ شہروں کے منصوبوں کو تقویت دے سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ دوسرے ممالک کے کامیاب ماڈلز کا مطالعہ کرے اور انہیں اپنے مقامی حالات کے مطابق ڈھالے۔ یہ ہمیں مہنگی غلطیوں سے بچنے اور تیزی سے ترقی کرنے میں مدد دیتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی امداد اور شراکتیں

بہت سی بین الاقوامی تنظیمیں اور ممالک اسمارٹ شہروں کی ترقی کے لیے مالی امداد اور تکنیکی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ حکومتی پالیسیاں ان وسائل تک رسائی حاصل کرنے اور بین الاقوامی شراکتیں قائم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ یہ نہ صرف ہمارے شہروں کو ترقی دینے میں مدد کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ہمارے تعلقات کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

پالیسیوں کے ذریعے ڈیجیٹل ڈھانچے کی مضبوطی

اسمارٹ شہروں کی بنیاد ایک مضبوط اور جدید ڈیجیٹل ڈھانچے پر رکھی جاتی ہے، اور اس ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے حکومتی پالیسیاں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میں نے اپنے تجربے سے یہ دیکھا ہے کہ جب تک ریاست کی طرف سے واضح اور جامع پالیسیاں نہ ہوں، ٹیکنالوجی کا کوئی بھی بڑا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ ان پالیسیوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی، ڈیٹا پرائیویسی اور سیکیورٹی کے قوانین، اور IoT ڈیوائسز کے استعمال کے لیے معیارات شامل ہوتے ہیں۔ یہ صرف ٹیکنالوجی نصب کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کا نام ہے جہاں ٹیکنالوجی شہری زندگی کا حصہ بن کر لوگوں کی سہولت کا باعث بنے۔ ہمارے حکام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شہریوں کو ڈیجیٹل خواندگی کی طرف راغب کرنا اور انہیں نئی ٹیکنالوجیز سے واقف کرانا بھی پالیسی سازی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے شہر واقعی “اسمارٹ” بنیں تو ہمیں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) کے ڈھانچے میں بھرپور سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں حکومتی تعاون کے بغیر نجی شعبہ اکیلا کامیاب نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تیاری اور طویل مدتی وژن کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں ہمیشہ سے یہ مانتا آیا ہوں کہ جو ممالک ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، وہ نہ صرف اقتصادی طور پر مضبوط ہوتے ہیں بلکہ اپنے شہریوں کو ایک بہتر مستقبل بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی عمارت کی بنیاد مضبوط ہو تو اس پر کتنی ہی منزلیں کھڑی کی جا سکتی ہیں۔

فاسٹ انٹرنیٹ اور وائی فائی کی دستیابی

مجھے یاد ہے کہ چند سال پہلے تک ہمارے بہت سے شہروں میں انٹرنیٹ کی رفتار اور دستیابی ایک بڑا مسئلہ تھا۔ لیکن اب حکومتی اقدامات کی وجہ سے چیزیں کافی بہتر ہوئی ہیں۔ اسمارٹ شہروں کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری کو سستی اور تیز رفتار انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہو تاکہ وہ ان ڈیجیٹل سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں جو ایک اسمارٹ شہر پیش کرتا ہے۔ وائی فائی ہاٹ سپاٹس کی ہر جگہ دستیابی اور 5G نیٹ ورکس کی توسیع اس کی بنیادی مثالیں ہیں۔

ڈیٹا سیکیورٹی اور پرائیویسی کے قوانین

스마트시티 디자인의 정책적 지원 방안 - **Prompt 2: Sustainable Living and Green Transportation in a Smart Urban Landscape**
    "A vibrant,...

جب ہم اتنی زیادہ ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کے استعمال کی بات کرتے ہیں تو ڈیٹا کی حفاظت اور شہریوں کی ذاتی معلومات کی پرائیویسی سب سے اہم ہو جاتی ہے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مضبوط قوانین بنائے جو شہری ڈیٹا کو غلط استعمال سے بچا سکیں اور انہیں سیکیورٹی کا احساس دلائیں۔ یہ قوانین نہ صرف شہریوں کا اعتماد بڑھاتے ہیں بلکہ نجی کمپنیوں کو بھی ایک محفوظ ماحول میں کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

Advertisement

پائیدار شہری ترقی اور ماحولیاتی تحفظ

ایک اسمارٹ شہر صرف ٹیکنالوجی کے استعمال کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا شہر ہے جو پائیدار ہو اور اپنے ماحولیاتی اثرات کو کم کرے۔ یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ کوئی بھی شہر تب تک مکمل طور پر اسمارٹ نہیں کہلا سکتا جب تک وہ اپنے قدرتی وسائل کو محفوظ نہ رکھے اور آلودگی پر قابو نہ پائے۔ حکومتی پالیسیاں یہاں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، کیونکہ وہ قابل تجدید توانائی (جیسے شمسی اور بادی توانائی) کے استعمال کو فروغ دیتی ہیں، فضلے کے انتظام کے جدید نظام متعارف کراتی ہیں، اور پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بناتی ہیں۔ مجھے ہمیشہ سے یہ فکر رہی ہے کہ ہم اپنے آنے والی نسلوں کے لیے کس طرح کا ماحول چھوڑ کر جائیں گے، اور اسمارٹ شہروں کی منصوبہ بندی میں یہ پہلو بہت اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے منصوبوں کو ترجیح دے جو نہ صرف شہر کو جدید بنائیں بلکہ اسے “گرین” بھی رکھیں۔ سمارٹ لائٹنگ، سمارٹ ویسٹ مینجمنٹ، اور شہری جنگلات کاری جیسے منصوبے نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ ماحولیاتی توازن کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک شہر میں میں نے دیکھا کہ کیسے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام نے زمین کے پانی کی سطح کو بہتر بنانے میں مدد کی، یہ سب حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔

قابل تجدید توانائی کا فروغ

حکومت کی طرف سے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر سبسڈی اور ٹیکس میں چھوٹ دینا ایک اسمارٹ قدم ہے جو نہ صرف توانائی کے اخراجات کو کم کرتا ہے بلکہ ماحول کو بھی صاف رکھتا ہے۔ شمسی پینل کی تنصیب کو آسان بنانا اور سولر فارمز کی حوصلہ افزائی کرنا اسمارٹ شہروں کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ یہ نہ صرف بجلی کی پیداوار میں خود کفالت کی طرف ایک قدم ہے بلکہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مددگار ہے۔

جدید فضلے کا انتظام

فضلہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کا سامنا ہمارے شہروں کو ہے۔ سمارٹ ویسٹ مینجمنٹ پالیسیاں، جن میں کچرا الگ کرنا، ری سائیکلنگ کو فروغ دینا، اور فضلے سے توانائی پیدا کرنے والے پلانٹس لگانا شامل ہیں، ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے جدید کچرا دان جو بھرنے پر خود بخود اطلاع دیتے ہیں، صفائی کے نظام کو کتنا مؤثر بنا دیتے ہیں۔

بہتر ٹرانسپورٹیشن اور ٹریفک مینجمنٹ سسٹم

کسی بھی شہر میں ٹریفک کا مسئلہ ایک سر درد سے کم نہیں ہوتا، اور اسمارٹ شہروں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اس مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل کریں۔ میرے خیال میں حکومتی پالیسیاں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنانے، سمارٹ سگنلنگ سسٹم نصب کرنے، اور پارکنگ کے جدید حل فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان پالیسیوں کی بدولت شہری آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کر سکتے ہیں اور ٹریفک جام جیسی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب ٹریفک کا نظام بہتر ہوتا ہے تو لوگ زیادہ خوش اور فعال محسوس کرتے ہیں۔ یہ صرف سفر کا وقت بچانے کا معاملہ نہیں، بلکہ شہر کی معیشت اور رہائشیوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کا بھی ہے۔ اسمارٹ ٹرانسپورٹیشن سسٹم میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ریئل ٹائم انفارمیشن، ای-ٹکٹنگ، اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کا قیام شامل ہے۔ ان چیزوں کی وجہ سے نجی گاڑیوں پر انحصار کم ہوتا ہے اور ماحول بھی صاف ستھرا رہتا ہے۔ میں نے خود کئی ممالک میں دیکھا ہے کہ کیسے بہترین ٹرانسپورٹ سسٹم نے ان شہروں کو عالمی سطح پر پہچان دلائی ہے، اور یہ سب ٹھوس حکومتی منصوبہ بندی اور پالیسیوں کی مرہون منت ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کی جدت

بسوں، ٹرینوں اور میٹرو جیسے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو سمارٹ ٹیکنالوجی سے جوڑنا بہت ضروری ہے۔ حکومتی پالیسیاں ریئل ٹائم ٹریکنگ، آن لائن ٹکٹنگ اور سمارٹ کارڈ سسٹم کو فروغ دے کر شہریوں کے لیے سفر کو آسان بنا سکتی ہیں۔ یہ نہ صرف ٹریفک کو کم کرتا ہے بلکہ فضائی آلودگی میں بھی نمایاں کمی لاتا ہے۔

سمارٹ ٹریفک سگنلز اور پارکنگ حل

میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے شہروں میں ٹریفک سگنلز اکثر پرانے ہو چکے ہوتے ہیں اور ٹریفک کے بہاؤ کے مطابق خود بخود ایڈجسٹ نہیں ہوتے۔ سمارٹ ٹریفک سگنلز جو مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ٹریفک کی صورتحال کے مطابق وقت بدلتے ہیں، ٹریفک جام کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سمارٹ پارکنگ حل، جہاں آپ موبائل ایپ کے ذریعے خالی جگہ تلاش کر سکتے ہیں، پارکنگ کے مسائل کو حل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

Advertisement

شہریوں کی حفاظت اور سمارٹ سیکیورٹی اقدامات

ایک محفوظ اور پرامن ماحول کسی بھی اسمارٹ شہر کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ میری دلی خواہش ہے کہ ہمارے شہر اتنے محفوظ ہوں کہ کوئی بھی شخص کسی بھی وقت بلا خوف و خطر باہر نکل سکے۔ حکومتی پالیسیاں اس میدان میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان میں سی سی ٹی وی کیمروں کا وسیع نیٹ ورک، سمارٹ پولیسنگ، اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم کا قیام شامل ہے۔ میں نے خود کئی شہروں میں دیکھا ہے کہ کیسے ٹیکنالوجی نے کرائم ریٹ کو کم کرنے اور شہریوں کو تحفظ کا احساس دلانے میں مدد کی ہے۔ یہ صرف پولیس کے لیے نہیں، بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں انہیں بروقت مدد ملے گی۔ اسمارٹ شہروں میں ایمرجنسی الرٹ سسٹم، چہرہ شناسی (facial recognition) ٹیکنالوجی، اور ڈرون کی نگرانی جیسے اقدامات سے شہر کو مزید محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کا استعمال شفافیت اور اخلاقی اصولوں کے تحت ہو۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم درست پالیسیاں بنائیں تو ہم ایسے شہر بنا سکتے ہیں جہاں ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔ سیکیورٹی صرف کیمروں کی تعداد کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا مربوط نظام ہے جو ہر شہری کو تحفظ فراہم کرے۔

سی سی ٹی وی نیٹ ورک اور AI نگرانی

شہر بھر میں ہائی ریزولوشن سی سی ٹی وی کیمروں کا نیٹ ورک نصب کرنا اور انہیں مصنوعی ذہانت کے ساتھ جوڑنا سیکیورٹی کو بہت بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ کیمرے نہ صرف جرائم کو روکنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں تحقیقات میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ AI کیمرے مشکوک سرگرمیوں کا خود بخود پتا لگا کر متعلقہ حکام کو الرٹ کر سکتے ہیں۔

ایمرجنسی رسپانس سسٹم کی کارکردگی

کسی بھی ہنگامی صورتحال، جیسے کہ آگ لگنے یا قدرتی آفت کی صورت میں، فوری رسپانس سسٹم کا ہونا بہت ضروری ہے۔ حکومتی پالیسیاں ایسی ٹیکنالوجیز کو سپورٹ کر سکتی ہیں جو ایمرجنسی سروسز کو تیزی سے متاثرہ جگہ تک پہنچنے میں مدد دیں۔ مثلاً، سمارٹ شہروں میں خودکار سنسر آگ لگنے کی صورت میں فوری طور پر فائر بریگیڈ کو الرٹ کر سکتے ہیں۔

سرمایہ کاری اور مالیاتی ترغیبات

اسمارٹ شہروں کی تعمیر میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے، اور میرے تجربے میں یہ تب ہی ممکن ہے جب حکومت نجی شعبے کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دے۔ حکومتی پالیسیاں ٹیکس میں چھوٹ، سبسڈی، اور آسان قرضوں کی فراہمی کے ذریعے نجی سرمایہ کاروں کو اسمارٹ شہروں کے منصوبوں میں حصہ لینے پر آمادہ کر سکتی ہیں۔ مجھے ہمیشہ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جہاں سرکاری اور نجی شعبہ مل کر کام کرتے ہیں، وہاں بڑے اور کامیاب منصوبے جنم لیتے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل اسمارٹ شہروں کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ دونوں شعبوں کی طاقتوں کو یکجا کرتا ہے۔ حکومت کا کام صرف قوانین بنانا نہیں، بلکہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہے جہاں سرمایہ کاری پھلے پھولے اور نئے کاروبار پیدا ہوں۔ اس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں بلکہ شہر کی معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب حکومتیں سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہیں تو وہ اپنے منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لیے زیادہ پرجوش ہوتے ہیں۔ اسمارٹ شہروں کی ترقی کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاری کو بھی راغب کرنا بہت ضروری ہے، اور اس کے لیے مضبوط اور شفاف پالیسیوں کا ہونا ناگزیر ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک باغ کو سیراب کرنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح اسمارٹ شہروں کے منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

ٹیکس میں چھوٹ اور سبسڈی

حکومتیں نجی کمپنیوں کو اسمارٹ سٹی پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ٹیکس میں چھوٹ یا سبسڈی کی پیشکش کر سکتی ہیں۔ یہ خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے پرکشش ہوتا ہے جو گرین ٹیکنالوجیز یا پائیدار حل میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ یہ مالیاتی ترغیبات سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا ایک بہت مؤثر طریقہ ہے۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (PPP)

پی پی پی ماڈل حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ حکومت بنیادی ڈھانچے فراہم کرتی ہے جبکہ نجی کمپنیاں ٹیکنالوجی اور مہارت لاتی ہیں۔ اس طرح بڑے منصوبوں کو تیزی سے اور زیادہ مؤثر طریقے سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے اس ماڈل نے بہت سے ترقی پذیر ممالک میں کامیابی سے بڑے منصوبے مکمل کیے ہیں۔

Advertisement

شہریوں کی شمولیت اور ڈیجیٹل گورننس

ایک حقیقی اسمارٹ شہر وہ ہے جو اپنے شہریوں کی آواز سنتا ہے اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر شہریوں کو یہ محسوس ہو کہ ان کی آراء کو اہمیت دی جا رہی ہے تو وہ کسی بھی منصوبے کو زیادہ دل سے قبول کرتے ہیں۔ حکومتی پالیسیاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے شہریوں کو براہ راست شہر کی منصوبہ بندی میں شامل کرنے کا راستہ کھول سکتی ہیں۔ اس میں آن لائن پولز، تجاویز کے لیے پورٹلز، اور کمیونٹی میٹنگز کا ڈیجیٹل انعقاد شامل ہے۔ اسمارٹ شہروں میں یہ بہت ضروری ہے کہ حکومت اور شہری ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہیں تاکہ شہری مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔ جب شہری یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے خیالات پر عمل ہو رہا ہے، تو ان کا اعتماد بڑھتا ہے اور وہ شہر کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کس طرح ایک سادہ ایپ کے ذریعے شہریوں نے گلیوں میں کچرے اور ٹوٹ پھوٹ کی اطلاع دی اور حکام نے فوری کارروائی کی۔ یہ ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال ہے جو شہریوں کو بااختیار بناتا ہے اور گورننس کو شفاف بناتا ہے۔ ڈیجیٹل گورننس کا مطلب صرف آن لائن سروسز فراہم کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں شہری حکومت کے ساتھ آسانی سے بات چیت کر سکیں اور اپنے مسائل کا حل حاصل کر سکیں۔

آن لائن مشاورت اور فیڈ بیک پلیٹ فارمز

حکومت کو ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تیار کرنے چاہئیں جہاں شہری شہر کی ترقی کے منصوبوں پر اپنی رائے دے سکیں اور تجاویز پیش کر سکیں۔ یہ پلیٹ فارمز شہریوں کو براہ راست فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرتے ہیں اور شفافیت کو فروغ دیتے ہیں۔

سمارٹ سروسز اور ای-گورننس

تمام حکومتی خدمات کو آن لائن دستیاب کرنا، جیسے کہ بل ادا کرنا، لائسنس کے لیے درخواست دینا، یا دستاویزات حاصل کرنا، شہریوں کی زندگی کو آسان بناتا ہے۔ اسمارٹ شہروں میں ای-گورننس شہریوں کو بروقت اور شفاف خدمات فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف وقت بچاتا ہے بلکہ کرپشن کو بھی کم کرتا ہے۔

بہترین عالمی طرز عمل سے استفادہ اور بین الاقوامی تعاون

اسمارٹ شہروں کی ترقی ایک پیچیدہ عمل ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہم ہر چیز خود ہی سیکھیں اور تجربہ کریں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمیں ان شہروں سے سیکھنا چاہیے جنہوں نے اسمارٹ سٹی کے منصوبوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ حکومتی پالیسیاں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے سکتی ہیں، جہاں ہم دوسرے ممالک سے ٹیکنالوجی، مہارت، اور بہترین طرز عمل کو اپنا سکیں۔ عالمی سطح پر ایسے کئی کامیاب ماڈلز موجود ہیں جن سے ہم سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں ہم اپنے شہروں کو بین الاقوامی معیار پر لا سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک کانفرنس میں، میں نے دیکھا کہ کیسے ایک یورپی شہر نے اپنے ٹریفک کے مسائل کو ایک بالکل نئے طریقے سے حل کیا تھا، اور مجھے لگا کہ ہم بھی اپنے شہروں میں ایسے ہی طریقے اپنا سکتے ہیں۔ بین الاقوامی شراکتیں نہ صرف ہمیں نئے خیالات دیتی ہیں بلکہ ہمیں مالیاتی اور تکنیکی مدد بھی فراہم کر سکتی ہیں۔ اسمارٹ شہروں کی ترقی ایک عالمی چیلنج ہے، اور اس کا حل بھی عالمی تعاون سے ہی نکل سکتا ہے۔ ہمیں دوسرے ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ان کی کامیابیوں سے سیکھ کر اپنے شہروں کو بہتر بنانا چاہیے۔ یہ صرف نقالی نہیں بلکہ اپنے مقامی حالات کے مطابق بہترین عالمی طریقوں کو اپنانا ہے۔

پالیسی کا شعبہ اسمارٹ سٹی میں کردار مثال
ڈیجیٹل ڈھانچہ تیز رفتار انٹرنیٹ اور ڈیٹا سیکیورٹی فاسٹ وائی فائی ہاٹ سپاٹس، ڈیٹا پرائیویسی قوانین
ماحولیاتی پائیداری قابل تجدید توانائی اور فضلے کا انتظام شمسی توانائی کے منصوبے، ری سائیکلنگ کو فروغ
ٹرانسپورٹیشن بہتر پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹریفک مینجمنٹ سمارٹ سگنلز، ای-ٹکٹنگ سسٹم
سیکیورٹی شہریوں کا تحفظ اور ایمرجنسی رسپانس سی سی ٹی وی نیٹ ورک، ایمرجنسی الرٹ سسٹم
مالیاتی معاونت سرمایہ کاری کی ترغیبات اور PPP ماڈل ٹیکس میں چھوٹ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس
شہریوں کی شمولیت فیڈ بیک پلیٹ فارمز اور ای-گورننس آن لائن مشاورت، سمارٹ حکومتی خدمات

ٹیکنالوجی اور مہارت کا تبادلہ

بین الاقوامی سطح پر ٹیکنالوجی کے تبادلے کے پروگرام اور ماہرین کے دورے اسمارٹ شہروں کے منصوبوں کو تقویت دے سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ دوسرے ممالک کے کامیاب ماڈلز کا مطالعہ کرے اور انہیں اپنے مقامی حالات کے مطابق ڈھالے۔ یہ ہمیں مہنگی غلطیوں سے بچنے اور تیزی سے ترقی کرنے میں مدد دیتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی امداد اور شراکتیں

بہت سی بین الاقوامی تنظیمیں اور ممالک اسمارٹ شہروں کی ترقی کے لیے مالی امداد اور تکنیکی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ حکومتی پالیسیاں ان وسائل تک رسائی حاصل کرنے اور بین الاقوامی شراکتیں قائم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ یہ نہ صرف ہمارے شہروں کو ترقی دینے میں مدد کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ہمارے تعلقات کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

Advertisement

글을마치며

تو دوستو، جیسا کہ ہم نے دیکھا، اسمارٹ شہروں کا خواب صرف ٹیکنالوجی کے بڑے بڑے آلات نصب کرنے سے پورا نہیں ہو سکتا۔ اس کے پیچھے مضبوط، سوچ سمجھ کر بنائی گئی حکومتی پالیسیاں ہوتی ہیں جو پورے نظام کو جلا بخشتی ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں حکومت، نجی شعبہ اور سب سے بڑھ کر شہری، سب کو مل کر چلنا ہوگا۔ تب ہی ہم ایک ایسا شہر بنا پائیں گے جہاں زندگی واقعی آسان، محفوظ اور پائیدار ہو۔ مجھے امید ہے کہ اس گفتگو سے آپ کو اسمارٹ شہروں کے پیچھے چھپی پالیسیوں کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہوگا۔

알아두면 쓸모 있는 정보

1. اپنے علاقے میں سمارٹ سٹی منصوبوں کے بارے میں آگاہ رہیں اور حکومتی آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی آراء ضرور دیں۔ آپ کی آواز اہمیت رکھتی ہے اور یہ تبدیلی لا سکتی ہے۔

2. ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دیں! نئی ٹیکنالوجیز کو سمجھنا اور استعمال کرنا آپ کو اسمارٹ شہر کی سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں مدد دے گا۔ یہ اب صرف سہولت نہیں، بلکہ ضرورت بن چکی ہے۔

3. اپنے ماحولیاتی کردار کو مت بھولیں۔ ری سائیکلنگ، توانائی کی بچت اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرکے آپ خود بھی اسمارٹ شہر کے پائیداری کے ہدف میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ یہ ہمارے مستقبل کے لیے بہت ضروری ہے۔

4. مقامی سطح پر نئے کاروباری مواقع تلاش کریں جو اسمارٹ سٹی ٹیکنالوجیز سے منسلک ہوں۔ یہ آپ کو مالی طور پر مضبوط کر سکتے ہیں اور شہر کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔ مجھے یقین ہے کہ بہت سے نئے دروازے کھلیں گے۔

5. عالمی سطح پر سمارٹ شہروں کے کامیاب ماڈلز کا مطالعہ کریں۔ ان کے تجربات سے سیکھنا ہمیں اپنے شہروں کو بہتر بنانے کے لیے نئے خیالات دے سکتا ہے، اور ہمیں غلطیوں سے بچنے میں بھی مدد ملے گی۔

Advertisement

중요 사항 정리

اسمارٹ شہروں کی ترقی حکومتی پالیسیوں کی مرہون منت ہے جو ایک مضبوط ڈیجیٹل ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں۔ تیز رفتار انٹرنیٹ اور ڈیٹا سیکیورٹی اس کی بنیاد ہیں۔ ماحولیاتی پائیداری کے لیے قابل تجدید توانائی کا فروغ اور جدید فضلے کا انتظام نہایت اہم ہے۔ ٹرانسپورٹیشن میں بہتری کے لیے سمارٹ ٹریفک مینجمنٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ کا جدید نظام ضروری ہے۔ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سی سی ٹی وی نیٹ ورک اور مؤثر ایمرجنسی رسپانس سسٹم کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو ٹیکس میں چھوٹ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کے ذریعے راغب کرنا ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، شہریوں کی شمولیت اور ڈیجیٹل گورننس کے ذریعے انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا اعتماد سازی کے لیے ضروری ہے۔ آخر میں، بین الاقوامی بہترین طرز عمل سے استفادہ اور تکنیکی تعاون ہمارے شہروں کو عالمی معیار پر لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں اسمارٹ شہر کا تصور حقیقت کا روپ دھارتا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: ایک “اسمارٹ سٹی” آخر ہے کیا اور یہ ہمارے روایتی شہروں سے کیسے مختلف ہوتا ہے؟

ج: دیکھو یار، جب ہم “اسمارٹ سٹی” کی بات کرتے ہیں تو میرے ذہن میں فوراً ایک ایسے شہر کا نقشہ ابھرتا ہے جہاں زندگی بہت آسان اور بہتر ہو۔ سمارٹ سٹی صرف اونچی عمارتیں یا چوڑی سڑکیں نہیں ہوتیں، بلکہ یہ ایک ایسا شہری علاقہ ہوتا ہے جو جدید ٹیکنالوجی، بہتر انفراسٹرکچر، توانائی کی بچت اور مؤثر شہری خدمات کا استعمال کرتے ہوئے شہریوں کی زندگی کو آسان اور بہتر بناتا ہے। مثال کے طور پر، اسمارٹ شہروں میں ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے ذہین ٹریفک مینجمنٹ سسٹم ہوتے ہیں، جس سے ٹریفک جام کم ہوتا ہے اور لوگوں کو سکون ملتا ہے۔ اسی طرح، کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے تجزیاتی فضلہ کے انتظام کے نظام اور عوامی نقل و حمل کے بہتر نظام ہوتے ہیں۔ میں نے خود محسوس کیا ہے کہ جب شہر میں بنیادی سہولیات جیسے پانی اور بجلی کی فراہمی، بہتر سیوریج اور حفاظت کے لیے کیمرے (جیسے سی سی ٹی وی) موجود ہوں تو زندگی کتنی پرسکون ہو جاتی ہے۔ ان شہروں کا مقصد صرف ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں، بلکہ انسانوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ پرانے شہروں میں یہ ساری سہولیات اتنی منظم نہیں ہوتیں اور اکثر ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سمارٹ سٹی انہی چیلنجز کا جدید حل پیش کرتا ہے۔

س: اسمارٹ شہروں کی تعمیر میں حکومتی پالیسیاں کس حد تک اہم ہیں اور یہ کیسے مدد کرتی ہیں؟

ج: میری نظر میں، حکومتی پالیسیاں اسمارٹ شہروں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میں نے اپنے تجربے سے سیکھا ہے کہ کوئی بھی بڑا پروجیکٹ، خاص کر شہری سطح پر، حکومتی تعاون اور واضح پالیسیوں کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ حکومتیں اسمارٹ شہروں کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتی ہیں، جس میں وسائل کی تقسیم، قوانین کا نفاذ اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے فریم ورک شامل ہوتا ہے۔ بھارت میں اسمارٹ سٹی مشن اس کی ایک بہترین مثال ہے جہاں حکومت نے 100 شہروں کو سمارٹ بنانے کا ہدف رکھا اور کروڑوں روپے کے پروجیکٹس شروع کیے۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، سمارٹ سڑکیں، سائیکل ٹریکس اور پانی کی فراہمی کے نظام کی نگرانی جیسے منصوبے ممکن ہوئے۔ مزید برآں، حکومتیں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو بھی راغب کرتی ہیں، جیسا کہ لاہور میں ہواوے کے تعاون سے اسمارٹ سٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میرے خیال میں، جب حکومت سنجیدگی سے ایسے منصوبوں کی حمایت کرتی ہے تو عوام کا اعتماد بڑھتا ہے اور انہیں بھی اپنے شہر کے مستقبل کے بارے میں امید نظر آتی ہے۔ یہ صرف ٹیکنالوجی خریدنا نہیں، بلکہ ایک ایسا ماحول بنانا ہے جہاں ہر شہری کو لگے کہ یہ شہر اسی کا ہے۔

س: اسمارٹ شہر بنانے میں کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان پر قابو پانے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے؟

ج: دیکھو یار، ہر بڑے خواب کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی آتے ہیں اور اسمارٹ شہروں کی تعمیر بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ مجھے خود لگتا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج تو لاگت کا ہوتا ہے، کیونکہ یہ منصوبے اربوں روپے کے ہوتے ہیں۔ دوسرا، ان منصوبوں کے لیے ماہرین کی کمی بھی ایک مسئلہ ہے، جو نئے شہروں کی تعمیر یا موجودہ انفراسٹرکچر میں تبدیلیوں کا تجربہ رکھتے ہوں۔ اس کے علاوہ، قانونی مسائل، مختلف محکموں سے منظوری حاصل کرنے میں تاخیر اور زمین کا حصول بھی ایک بڑا دردِ سر بن سکتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی نہ ہو تو کام کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے، میری رائے میں، ایک مضبوط اور پائیدار حکمت عملی ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو حکومت کو نجی سرمایہ کاروں کو مزید راغب کرنے کے لیے آسان پالیسیاں بنانی چاہئیں۔ پھر، یہ بھی ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کی تعلیم اور تربیت کو فروغ دیا جائے تاکہ ہمارے اپنے لوگ ان منصوبوں میں حصہ لے سکیں۔ مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز جیسے حل اس لیے بھی اہم ہیں کہ وہ مختلف سروسز کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لے آتے ہیں، جس سے مسائل کی نشاندہی اور حل آسان ہو جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم سب مل کر کام کریں، حکومت، نجی شعبہ اور سب سے بڑھ کر عوام، تو ان چیلنجز کو آسانی سے شکست دی جا سکتی ہے۔ ہم پاکستانی بہت باہمت لوگ ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ ہم بھی اپنے شہروں کو دنیا کے بہترین سمارٹ شہروں میں بدل سکتے ہیں۔